اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 37 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 37

الله 37 تیرے کوچے میں بکھر جاؤں اگر ! حادثہ اک یہ بھی کر جاؤں اگر ! اپنی غزلوں کو سجا کر طشت میں تیرے دروازے پر دھر جاؤں اگر ! عہد کی تصویر کو کر کے خفا اس میں کوئی رنگ بھر جاؤں اگر ! میں ترا ہی عکس ہوں لیکن ترے پاس سے ہو کر گزر جاؤں اگر ! واپس آ جاؤں میں اپنے آپ میں اپنی آہٹ سے نہ ڈر جاؤں اگر ! کیوں بلا بھیجا تھا اتنے پیار سے اب کبھی واپس نہ گھر جاؤں اگر ! تجھ سے ملنا تو انوکھی بات ہے خود سے مل کر بھی مگر جاؤں اگر ! حادثہ ہو جائے شہر ذات میں اس ٹریفک میں ٹھہر جاؤں اگر ! کوئی سمجھے گا نہ اب میری زباں کوٹ کر بار دگر جاؤں اگر ! عقل کے میدان میں کھا کر شکست عشق کی بازی بھی ہر جاؤں اگر ! جی اٹھوں مضطر ! ہمیشہ کے لیے مسکرا کر آج مر جاؤں اگر !