اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 36 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 36

36 دشت جنوں میں عقل کا سیلاب آ گیا اندیشہ ہائے سود و زیاں بولنے لگے بیتے ہوئے دنوں سے نہ سرگوشیاں کرو ایسا نہ ہو کہ عمر رواں بولنے لگے کس کی مجال تھی کہ سرِ دار بولتا بولے ہیں ہم تو تم بھی میاں! بولنے لگے مضطر ! ضمیر لفظ کے سونے مکان میں وہ حبس تھا کہ وہم و گماں بولنے لگے