اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 26 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 26

26 کوئی تو ہے جو کھڑا ہے صدا کے پہلو میں میں بولتا ہوں تو یہ درمیان بولتا ہے عدو سے کرتا ہوں اب گفتگو اشاروں میں میں اس کی اور وہ میری زبان بولتا ہے تمام شہر ہے قائل تری صداقت کا یہ اور بات ہے اک بدگمان بولتا ہے سفر پہ جب بھی نکلتا ہے باوضو ہو کر نماز پڑھتا ہے لمحہ ، اذان بولتا ہے یہ کون گزرا ہے صحرا پہ منکشف ہو کر قدم قدم پہ قدم کا نشان بولتا ہے ازل کی دھوپ کو سر پر سجا تو لوں مضطر ! مگر وجود کا یہ سائبان بولتا ہے