اشکوں کے چراغ — Page 25
25 وہ بولتا ہے تو سارا جہان بولتا ہے زمین بولتی ہے، آسمان بولتا ہے رہائی ملتی ہے آواز کو اسیری سے ہزار سال کے بعد آسمان بولتا ہے صدا اسی کی ہے لیکن ازل کے گنبد میں کبھی مکان، کبھی لامکان بولتا ہے وہ ایسے بول رہا ہے وجود میں میرے کہ جیسے مالک کون و مکان بولتا ہے دل و نگاہ کے عیسیٰ ہیں گوش بر آواز سرِ صلیب کوئی ہم زبان بولتا ہے خموش بیٹھے ہیں دونوں اُجاڑ کمرے میں نہ میزبان نہ کچھ مہمان بولتا ہے جھگڑ رہے ہیں ہوا سے کواڑ کمروں کے مکین جاگ رہے ہیں، مکان بولتا ہے