اشکوں کے چراغ — Page 613
613 آہٹوں کا ریلا ہے راه رو اکیلا ہے خاک و خوں ہے خیمے ہیں تن کی جھوٹ گاڑی کو کربلا کا میلا ہے جھوٹ نے دھیلا ہے وہ بھی ایک جھوٹا تھا یہ بھی اس کا چیلا ہے اس ہجوم کے اندر آدمی اکیلا ہے ہر ہر ستم کو جھیلا ہے خوشی کو چکھا ہے ہم نے کھیل فرقت کا اٹھ اذان دے مسکرا کے کھیلا ہے مضطر جاگ فجر ویلا ہے