اشکوں کے چراغ — Page 608
608 دل ناداں ابھی زندہ بہت ہے اسے امید آئندہ بہت ہے بہت وعدے کئے ہیں اس نے، لیکن جیسا بھی ہے شرمندہ بہت ہے خدا محفوظ رکھے اس کے شر سے مار آستیں زندہ بہت ہے بہار آئی ہوئی آنسوؤں کی ہے فرقت درخشندہ بہت ہے نہیں زلزلوں کی اس کو ہے پروا فصیل شہر پائنده بہت ہے اگر میدان سے بھاگا تو اب کے ابوسفیان کو ہندہ بہت ہے تری تائید شامل ہو تو مالک فقط تیرا نمائنده بہت ہے نظر آتا نہیں اندھوں کو مضطر اگرچہ چاند تابندہ بہت ہے