اشکوں کے چراغ — Page 606
606 کچھ تو کرم فرماؤ ناں اتنا یاد نہ آؤ ناں پنے چاہنے والوں سے اتنا بھی شرماؤ ناں فرصت ہو تو چیکے جا بھی رہے ہو ނ سپنے میں میں آ جاؤ ناں کہتے ہو گھبراؤ ناں ہم بھی آتے جاتے ہیں تم بھی آؤ جاؤ ناں عشق اگر دھوکا ہے میاں دھوکا بھی کھاؤ ناں ہجر کی رت میں رو رو رو کر کندھاں کوٹھے ڈھاؤ ناں شور مچا ہے مقتل میں ناحق اپنی کثرت پر تم بھی شور مچاؤ ناں اتنا بھی اتراؤ اذنِ عام ہے کہتے ہیں مضطر تم بھی جاؤ ناں اتراؤ ناں