اشکوں کے چراغ — Page 601
601 30* 小 عہد کا مسند نشیں ہے چا ہے حسیں ہے زمانے میں کہاں تجھ سا حسیں ہے نہیں، ہرگز نہیں، ہرگز نہیں ہے جہاں تو ہے مرا دل بھی وہیں ہے وہیں پر ہے، وہیں پر ہے، وہیں ہے ترے اجداد اک دوجے سے بڑھ کر که تو خود بھی یکے از کاملیں ہے ترے رخ سے اجالا ہے جہاں میں کہ تو اس عہد کا ماہ میں ہے ترے ہمراہ ہے سچی جماعت کہ تو سچوں کا آتا ہے امیں ہے فقط تو قافلہ سالار ہے آج مرا ایمان ہے، میرا یقیں ہے