اشکوں کے چراغ — Page 588
588 جو صحرا میں گل کھلے ہیں میاں گل نہیں ہیں یہ معجزے ہیں میاں کیسے کیسے نشان رحمت کے آسماں سے برس رہے ہیں میاں کبھی روکے سے رک نہیں سکتے محبت کے قافلے ہیں میاں سب گزرتے ہیں کوئے جاناں سے عشق کے جتنے راستے ہیں میاں وہی تم انداز آواز ہے وہی پہلے کہیں ملے ہیں میاں گالیاں سن کے دے رہے ہیں دعا یہ فقیروں کے حوصلے ہیں میاں دیکھئے جیت کس کی ہوتی ہے میرے مجھ سے مقابلے ہیں میاں