اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 551 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 551

551 وہ بے اصول اگر با اصول ہو جائے فقیہ شہر کا فتویٰ فضول ہو جائے خدا کرے کہ وہ بندہ بنے، خدا نہ بنے خدا کرے کہ کوئی اس سے بھول ہو جائے اسے بھی عکس نظر آئے اپنے چہرے کا اسے بھی آنکھ کی قیمت وصول ہو جائے عجب نہیں ہے کہ میری خطاؤں کے باوصف تری دعا مرے حق میں قبول ہو جائے میں تیری یاد سے بہلا لیا کروں دل کو جو بیٹھے بیٹھے طبیعت ملول ہو جائے اگر ہو اذن تو اس جانِ ناتواں کی طرح مرا بدن بھی ترے در کی دھول ہو جائے ترے خیال کی خوشبو کچھ اس طرح پھیلے یہ خار خارقفس پھول پھول ہو جائے یقیں نہ آئے گا مضطر! ابولہب کو کبھی کہ اس کا اپنا بھتیجا رسول ہو جائے!