اشکوں کے چراغ — Page 550
550 ان آنکھوں میں جو ہلکی سی لالی ہے موہ کا میلہ ہے، دل کی دیوالی ہے جینا بھی گالی، مرنا بھی گالی ہے نے یہ خلعت خود ہی سلوا لی ہے کثرت کی بندوق کی یہ جو نالی نادانو ! تم پر ہی چلنے والی ہے ہے جاگ کہ پیار کا سورج چڑھنے والا ہے دیکھ کہ اب انکار کا ترکش خالی ہے کس نے دستک دی ہے اس سناٹے میں باہر جا کر دیکھو کون سوالی ہے ان سے ملے بغیر نہ واپس جاؤں گا میں ہوں آج اور اس روضے کی جالی ہے عملوں کی گوں کس کا بیڑا پار ہوا مضطر ! یہ سب تیری خام خیالی ہے