اشکوں کے چراغ — Page 539
539 رت بدلی، سب ماند پڑے ہیں ٹم کے کاروبار دل آواره، غم کا مارا پھرتا ہے بے کار چاند چھپا، تارے مرجھائے، نرگس ہے بیمار بوٹا بوٹا جاگ رہا ہے، کلی کلی بیدار پھونک پھونک کر پاؤں رکھے، عقل بڑی ہشیار من مورکھ ہے بات بات پر مرنے کو تیار نیلی، نتھری نتھری اُس کی شیتل جھیل یاد کی رادھا تیر رہی ہے دور کہیں اس پار شب کی آنکھ میں اوس کے آنسو امڈ امڈ کر آئے چاند کے رس میں بھیگ رہے ہیں شبنم کے اسرار سوکھے پتے ناچ رہے ہیں موت کا پاگل ناچ سونی خلوت گاہوں میں ہے پت جھڑ کی جھنکار حسن کی باتیں عشق کے قصے ، جھوٹ ہیں یارو! جھوٹ گل جھوٹا، بلبل بھی جھوٹی، جھوٹا سب سنسار ہار اور جیت کے جھگڑوں سے بالا ہے دل کا کھیل عشق کا پانسہ جس نے پھینکا اس کی جیت نہ ہار