اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 534 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 534

534 اپنے سائے سے ڈر رہی ہے رات جی رہی ہے نہ مر رہی ہے رات صبح نو سے ملی ہے پہلی بار جانے اب تک کدھر رہی ہے رات اپنی تصویر دیکھنے کے لیے پانیوں میں اتر رہی ہے رات جانتی ہے پتے ستاروں کے چاند کی ہمسفر رہی ہے رات پھر کسی صبح کے تصور میں لمحہ لمحہ گزر رہی ہے رات جو سورج چڑھا ہے آدھی رات اس کا انکار کر رہی ہے رات پھر ازل اور ابد کے سنگم دبے پاؤں گزر رہی ہے رات آ گئی ہے اُتر کے دھرتی تن تنہا ہے، ڈر رہی ہے رات تم بھی مضطر ! اسے بغور سنو جو اعلان کر رہی ہے رات