اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 11 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 11

11 کانٹے ہیں اور پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے پیاسوں کے درمیاں ہیں پیالے پڑے ہوئے آندھی بھی ہے چڑھی ہوئی ، نازک ہے ڈور بھی کچھ بیچ بھی ہیں اب کے نرالے پڑے ہوئے یہ مقبرے نہیں ہیں شہیدان عشق کے ایفائے عہد کے ہیں حوالے پڑے ہوئے اترا تھا چاند شہر دل و جاں میں ایک بار اب تک ہیں آنگنوں میں اجالے پڑے ہوئے رہزن کو بھی فرار کا رستہ نہ مل سکا چاروں طرف تھے قافلے والے پڑے ہوئے تیرے لیے ہی اترے ہیں یہ آسمان سے جو غم بھی راہ میں ہوں اٹھالے پڑے ہوئے آمادگی کا نور غزل خواں ہے آنکھ میں فرط حیا سے لب پہ ہیں تالے پڑے ہوئے