اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 423 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 423

423 اوّل آئینے سے الفت ہو گئی غور سے دیکھا تو نفرت ہو گئی اپنے خادم کی خطائیں دیکھ کر اور بھی اس پر عنایت ہو عشق کا الزام ثابت ہو گیا اب تو سچائی بھی تہمت ہو گئی مسکراتا ہی رہا وہ عمر بھر مسکرانا اس کی عادت ہو گئی وہ اکیلا اور اس کے ارد گرد چاہنے والوں کی کثرت ہو گئی جس قدر نزدیک سے دیکھا اسے اتنی ہی اس سے محبت ہو گئی ہوں تو اک ذرہ مگر حیران ہوں کس طرح سورج سے نسبت ہو گئی