اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 422 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 422

422 جس کا دعویٰ تھا : ' مری گرسی بڑی مضبوط ہے ذکر اس کا داستاں در داستاں کوئی نہ تھا جانے کیوں لوگوں نے اس پر کر لیا تھا اعتبار اس کی بزم ناز میں کیا بدگماں کوئی نہ تھا پر کر لیا آخر بسیرا اس نے اوج دار اس پرندے کا چمن میں آشیاں کوئی نہ تھا آئنے تک تو دبے پاؤں وہ آیا تھا مگر اس سے آگے دور تک اس کا نشاں کوئی نہ تھا اب گئی رت کی کہانی تھی قریب الاختتام پھول اس پت جھڑ میں زیب گلستاں کوئی نہ تھا جا چکے تھے سب تماشائی گھروں کو لوٹ کر ماسوا مقتول کے وقت اذاں کوئی نہ تھا شہر میں شاید اُتر آیا ہو دیواروں کے بیچ دشت میں تو سایہ ابرِ رواں کوئی نہ تھا ایک سوتیلے کو ہے افسوس مضطر! آج تک یوسف دوراں کے رستے میں کنواں کوئی نہ تھا (۸۰، ۱۹۷۹ء)