اشکوں کے چراغ — Page 411
411 تم عہد کی آواز سے ڈر کیوں نہیں جاتے پندار کی سولی سے اتر کیوں نہیں جاتے سب کہنے کی باتیں ہیں مری جان! وگرنہ شرمندہ ہو تو شرم سے مرکیوں نہیں جاتے عرق خجالت میں شرابور مسافر صحرائے ندامت سے گزر کیوں نہیں جاتے نیچے ہیں ترے ہاتھ تو پھر تیرے قلم سے چہروں کے خدو خال سنور کیوں نہیں جاتے برسات کا موسم ہے نہ پچھلی ہے کہیں برف یہ آنکھ کے تالاب اُتر کیوں نہیں جاتے کیوں محو تماشا ہیں سرِ بام تختیر نظارے ترے رُخ پر بکھر کیوں نہیں جاتے گھر سے تو نکل آئے ہو زنجیر پہن کر اس شور میں چپکے سے گزر کیوں نہیں جاتے