اشکوں کے چراغ — Page 409
409 رات ڈھل جائے گی،سورج کا سفر بھی ہوگا صبح ہوتے ہی کوئی شہر بدر بھی ہو گا پھر سر اوج سناں عشق کی ہو گی تصدیق حسن خود دیکھنے آئے گا جدھر بھی ہو گا لوئی تو سمجھے گا اس عہد کے آدم کی زباں شہر مسحور میں کوئی تو بشر بھی ہو گا تو ہے وہ خواب جسے عین حقیقت کہیے تو مرے پہلو میں ہنگام سحر بھی ہو گا تیری تصویر کو پلکوں پہ سجانے والا خود ہی تصویر نہ بن جائے، یہ ڈر بھی ہوگا تیرے دیدار کی طاقت تو نہ ہو گی لیکن ہر کوئی تیری طرف محو سفر بھی ہو گا عشرت سجدہ نہ ہو گی مجھے حاصل کیا کیا تیری دہلیز بھی ہو گی، مرا سر بھی ہو گا