اشکوں کے چراغ — Page 402
402 اتنا احسان اور کر دینا اپنے گھر کے قریب گھر دینا ہجر کی رات مختصر دینا وصل کا دن طویل کر دینا تیرے پاؤں کی خاک بن جاؤں اپنی دہلیز اپنا در دینا کام دینا جو ہو پسند تجھے نام دینا تو معتبر دینا بھول جاؤں نہ اپنے آپ کو میں قرب مجھ کو نہ اس قدر دینا جب بھی جانا پڑے پرائے دیں ”اپنے احوال کی خبر دینا راستے کا جسے شعور نہ ہو کوئی ایسا نہ ہمسفر دینا جب کچھڑ جاؤں اپنے آپ سے میں مجھ کو میرے قریب کر دینا بخش کر اپنے درد کی دولت کیا ہمیں ملک و مال و زر دینا راہ چلتے اگر سوال کریں مت جواب ان کا نامہ بر دینا تیری خاطر چلا تو ہے مضطر اس کی آواز میں اثر دینا