اشکوں کے چراغ — Page 400
400 مٹی کا لمس، دھوپ کی لذت کہیں اسے پانی پہاڑ سے جو اُترتا دکھائی دے اس سے کہو کہ دن کو نہ نکلے مکان سے جو شخص چاند رات میں ہنستا دکھائی دے بالشتیوں کے دیس کی رسمیں عجیب ہیں ہر کوئی اپنے قد سے جھگڑتا دکھائی دے جوش نمو نه لذت آزار آرزو اندر ہی کچھ نہ ہو تو اسے کیا دکھائی دے مضطر! فراق یار کے یہ معجزات ہیں لمحہ کبھی صدی، کبھی لمحہ دکھائی۔دے