اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 399 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 399

399 دے سچا تو کائنات کو سچا دکھائی اور بات ہے تمھیں جھوٹا دکھائی دے اوج صلیب غم پہ جو بیٹھا دکھائی دے ہم کو تو اپنے عہد کا عیسی دکھائی دے آواز کے افق پہ جو چہرہ دکھائی دے آنکھوں میں نور ہو تو ہمیشہ دکھائی دے سب سے جدا ہو، سب سے انوکھا دکھائی دے کوئی تو اس ہجوم میں تم سا دکھائی دے اوڑھے ہوئے نہ ہو اگر آواز کی ردا ہر لفظ بے لباس ہو، ننگا دکھائی دے آشوب اختلاف سے دھندلا گئی نظر اپنا دکھائی دے نہ پرایا دکھائی دے تو بھی کبھی وجود۔سے باہر نکل کے دیکھ شاید تجھے وجود کا ملبہ دکھائی " دے