اشکوں کے چراغ — Page 397
397 ذکر اپنا کبھی تمھارا کیا جس طرح ہو سکا گزارا کیا بر سر دار دی وفا کی اذاں عشق کا جرم آشکارا کیا درد ہی لاعلاج تھا اپنا ورنہ کیا کیا نہ ہم نے چارہ کیا بات دل کی زباں پہ آ نہ سکی یوں تو کرنے کو ذکر سارا کیا ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے ہم لوگ کھڑا زلف کو سنوارا کیا وہ تو نہ آیا تو درد کا مارا تیری تصویر کو پکارا کیا وہ کھلے شہر“ ہی میں رہتا تھا تو جسے عمر بھر پکارا کیا تیرے غم کے طفیل مضطر نے ساری دنیا کا غم گوارا کیا