اشکوں کے چراغ — Page 396
396 یوں تو سورج سے تصادم ٹل گیا دھوپ سے دھرتی کا چہرہ جل گیا بر سر بازار پھر سولی سجی پھر کوئی منصور سر کے بل گیا پھر نکل آئے گلی کوچوں میں لوگ جلتے جلتے شہر سارا جل گیا ہوتے ہوتے ہو گئی ترکی تمام پھر وہی پہلا سا چکر چل گیا کوئی تو آیا تھا چھپ کر شہر میں کوئی تو چہروں پر کالک مل گیا اب نہیں پہلی سی شدت دھوپ میں آفتاب عمر مضطر! ڈھل گیا