اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 387 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 387

387 میرے اس کے درمیاں تو فاصلہ کوئی نہ تھا پھر نہ جانے کیوں مجھے اس سے گلہ کوئی نہ تھا آسماں نیچے اتر آیا تھا مجھ کو دیکھ کر اس کا اب رمز آشنا میرے سوا کوئی نہ تھا را ہر و رفتار کے چکر میں تھے آئے ہوئے منزلیں ہی منزلیں تھیں، راستہ کوئی نہ تھا لفظ ننگے پاؤں، ننگے سر، بھرے بازار میں پھر رہے تھے اور ان کو ٹوکتا کوئی نہ تھا عشق اپنی اوٹ میں سویا ہوا تھا چین سے اس کا دعوی تھا اسے پہچانتا کوئی نہ تھا ایک ہی کشتی میں تھے بیٹھے ہوئے چھوٹے بڑے نوح“ کے طوفان میں چھوٹا بڑا کوئی نہ تھا آئنہ خانوں پہ اک بحران تھا آیا ہوا آئنه بردار گم تھے، آئنہ کوئی نہ تھا پہلے بھی کوئے ملامت سے تھی نسبت دُور کی اور اب تو شہر میں مجھ سے برا کوئی نہ تھا مجھ کو اپنی بندگی کی شرم دامن گیر تھی وہ سمجھتا تھا کہ مضطر کا خدا کوئی نہ تھا