اشکوں کے چراغ — Page 382
382 کوئی تمیز اچھے برے کی نہیں رہی دھندلا گئی ہیں سرحدیں اس انقلاب سے میلی نگاہ سے انھیں دیکھا نہ ہو کہیں کملا گئے ہیں گل جگہ انتخاب سے آئینہ میرے کانپتے ہاتھوں سے گر گیا میں بال بال بچ گیا یوم الحساب سے مضطر کے نام پر خط تنسیخ کھینچ کر خود کو بھی تم نے کر دیا خارج نصاب سے