اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 376 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 376

376 میرا نامہ پڑھ کے میرا نامہ بر ہنسنے لگا اور پھر تو یوں ہوا کہ شہر بھر ہنسنے لگا اس کو ہنسنے کے الم کا کوئی اندازہ نہ تھا مجھ کو ہنستا دیکھ کر وہ بے خبر ہنسنے لگا بے خبر! مجبور کو ہنسنے پہ مت مجبور کر تیرا کیا باقی رہے گا وہ اگر ہنسنے لگا ہنسنے رونے میں بظاہر فاصلہ کوئی نہ تھا رات جو رویا تھا ہنگام سحر ہنسنے لگا میرے عرض حال پر وہ ہو گیا بے تاب سا اور پھر کیا جانیے کیا سوچ کر ہنسنے لگا کس محبت سے در و دیوار نے دیکھا اسے مسکرائے آئنے اور گھر کا گھر ہنسنے لگا بخش دی منظر کو اُس نے جب سے غم کی سلطنت التجائیں مسکرائیں اور اثر ہنسنے لگا