اشکوں کے چراغ — Page 372
372 گہرائیوں میں غم کی اُتر جانا چاہیے یہ مرحلہ بھی سر سے گزر جانا چاہیے سولی پر چڑھ کے کس لیے ہنستے نہیں ہیں لوگ بے یقینیاں ہیں تو مر جانا چاہیے سب ڈھے چکی ہیں ساحل غم کی عمارتیں اب تو سمندروں کو اُتر جانا چاہیے تاریکیاں نہ قبضہ جما لیں مکان پر اے آفتاب! لوٹ کے گھر جانا چاہیے پت جھڑ کے اثر دہام میں خوشبو کے دوش پر پھولوں کو مسکرا کے بکھر جانا چاہیے پلکوں کے یار لاکھوں نکلتے ہیں راستے اے اشک ناتمام! کدھر جانا چاہیے ہیں منتظر پرانے مکاں کی خموشیاں کوئی سفیر صوت ادھر جانا چاہیے مضطر ! حریم ذات میں اتنی جسارتیں ڈرنے کا ہو مقام تو ڈر جانا چاہیے