اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 370 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 370

370 میں نے کہا تھا شہر صلیب میں بارش ہو گی پھولوں کی وہ بولا تھا میں رستے میں پتھر لے کر بیٹھا ہوں میرے فرقت خانے کی جانب بھی جاناں ایک نظر کتنی اُمیدوں کے، پیار کے پیکر لے کر بیٹھا ہوں تیپا صحرا ہے اور بادِ سموم کے جلتے جھگڑ ہیں میں ہوں اور تیری پہچان کی چادر لے کر بیٹھا ہوں تیرے لطف کی بارش نے بھی تھمنے کا نہیں نام لیا میں بھی تیری حمد و ثنا کے دفتر لے کر بیٹھا ہوں چاہو تو اب پارس کر دو ان کو ایک اشارے سے غفلت کے انبار ، عمل کے کنکر لے کر بیٹھا ہوں (۹ را گست، ۱۹۹۷ء)