اشکوں کے چراغ — Page 347
347 قریب رہ کے بھی وہ ہم سے دور اتنا تھا ہمارا اس کا تعلق ضرور اتنا تھا سوائے اپنے اسے کچھ نظر نہ آتا تھا فقیہ شہر کے سر میں فتور اتنا تھا اسے تھا دعوی کہ اُس کے سوا نہیں کوئی اڑا ہوا تھا وہ ضد پر، غرور اتنا تھا نظر نہ آیا اسے اپنی آنکھ کا شہتیر وہ آدمی تھا مگر بے شعور اتنا تھا نشان راہ نہ منزل دکھائی دیتی تھی غبار اب کے برس دور دور اتنا تھا ق نظر اٹھا کے اسے دیکھنا تھا ناممکن مرے حسین کے چہرے پر نور اتنا تھا