اشکوں کے چراغ — Page 344
344 اتنی حقارت سے نہ دیکھو اکیلا ہے، مگر تنہا نہیں ہے اسی کے نام کا سکہ چلے گا تم نے کبھی سوچا نہیں ہے بتا دوں گا میں سارا حال اس کو کوئی اس کے سوا چارہ نہیں ہے یونہی اک فاصلہ سا ہو گیا ہے وگرنہ تم سے کچھ پردہ نہیں ہے جواب اس خط کا بھی آیا ہے امشب جسے ہم نے ابھی لکھا نہیں ہے تماشائی بھی اب تو کہہ رہے ہیں یہ سودا اس قدر سستا نہیں ہے چھپا سکتا نہیں خوشبو کو، مضطر! یہ تھانے دار نے سوچا نہیں ہے