اشکوں کے چراغ — Page 332
332 ساز کا قبضہ ہے آواز کی لہروں پر سوز کو بھی چپ رہنے کا فن آیا ہے خالی ہاتھ کھڑے ہیں لفظ قطاروں میں ہے آواز کا مدفن آیا ہے لگتا حضرت یوسف سے کہہ دو محتاط رہیں شہر میں کہتے ہیں اک نردھن آیا ہے گندم کے مقروض کھڑے ہیں ساحل پر دریا پار سے ایک مہاجن آیا ہے کچھ کرلے سیلاب کا بندوبست میاں! ہاڑ گیا اور سر پر ساون آیا ہے آنکھ اٹھا کر دیکھ ستارہ قسمت کا نیند کے ماتے! جاگ، برہمن آیا ہے مضطر کی خاموشی پر حیران نہ ہو اس نے کیا ہے جو اس سے بن آیا ہے