اشکوں کے چراغ — Page 288
288 چاہنے والوں کو ڈسنے والا آ گیا ابر برسنے والا کتنا مرعوب ہے سناٹے سے میری آواز پہ ہنسنے والا بن گیا آپ ہی اپنی زنجیر میری زنجیر کو کسنے والا بانٹتا پھرتا ہے دریاؤں کو قطرے قطرے کو ترسنے والا تنگ آ جائے گا ہنستے ہنستے کبھی روئے گا یہ ہنسنے والا اب گرجتے ہوئے گھبراتا ہے راه چلتوں پہ برسنے والا اس کو پرواز کا فن آتا ہے یہ پرندہ نہیں پھننے والا بس گرجتا ہی چلا جاتا ہے یہ نہیں ابر برسنے والا سامنے کیوں نہیں آتا کھل کر جسم اور جان میں بسنے والا کس قدر دور ہے مجھ سے مضطر! میرے ہمسائے میں بسنے والا