اشکوں کے چراغ — Page 266
266 فرصت شام الم پوچھتے ہیں یعنی اندازہ غم پوچھتے ہیں الفاظ نے یورش کر دی آپ آداب قلم پوچھتے ہیں ہم سے کیا صلح نہیں ہو سکتی؟ لفظ با دیدہ نم پوچھتے ہیں دشت میں کوئی تو دروازہ ہو کس طرف جائیں، قدم پوچھتے ہیں بات جو پوچھی ہے تم نے مضطر! یوں بھری بزم میں کم پوچھتے ہیں