اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 224 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 224

224 پیرانِ مے کدہ ہوئے، اہل حرم ہوئے سب کے سر نیاز ترے در پہ خم ہوئے ملنے کی حسرتیں ہوئیں، فرقت کے غم ہوئے کیا کیا نہ حسنِ یار کے قصے رقم ہوئے وہ کونسی عطا ہے جو احباب نے نہ کی کیا کیا نہ میرے حال پر ان کے کرم ہوئے باہم شب فراق بڑی صحبتیں رہیں حیران وہ ہوئے کبھی حیران ہم ہوئے مضطر ! اگر چہ یار سا محسن نہیں کوئی تم سے خطا شعار بھی دُنیا میں کم ہوئے