اشکوں کے چراغ — Page 183
183 نہ ہم فقیروں کی خاطر، نہ آشنا کے لیے ت ” تو اپنی جان کی مت کھا قسم خدا کے لیے“ روش روش پہ ہیں بے تاب منزلوں کے ہجوم قدم قدم پہ ہیں خطرات رہنما کے لیے طفیل جس کے غم دوجہاں قبول کیا ترس گئے ہیں اسی چشم آشنا کے لیے نہ اپنی مانے، نہ اوروں کا اعتبار کرے مقام خوف ہے عقل گریز پا کے لیے ہزار آنکھ میں اشکوں کے جل رہے تھے چراغ دیے بھی ساتھ تری یاد کے جلا کے لیے سحر تو سر پر کھڑی ہے، سحر کا نام نہ لو سحر سحر نہ کرو قاتلو! خدا کے لیے ستارے شام غریباں کے چاند بن کے چڑھے یہ اہتمام مقدر تھا کربلا کے لیے سب اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے وفا کی رسم چلی ایک باوفا کے لیے کرم کی ان کے ہے مضطر ! جہان بھر میں دھوم چلو نہ تم بھی کبھی عرض مدعا کے لیے