اشکوں کے چراغ — Page 173
173 کچھ تو دنیا بھی آنی جانی لگی کچھ گلی یار کی سہانی لگی ان کی ہر بات کا یقیں آیا ان کی ہر بات آسمانی لگی ان کا غصہ ہے پیار سے بڑھ کر ان کی سختی بھی مہربانی لگی ان سے مل کر بدل گئی ہر چیز عمر فانی بھی جاودانی لگی اک قیامت گزر گئی دل پر سننے والوں کو اک کہانی لگی سر جھکا کر جو غور سے دیکھا ہر نئی آرزو پرانی لگی تیرے غم کے بغیر مضطر کو کتنی بے کار بے کار زندگانی لگی