اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 160 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 160

160 حد ادراک تک پھیلی ہوئی ہیں رنگ کی گلیاں ترے انفاس کی خوشبو، ترے آہنگ کی گلیاں جبین شب بتا کس مہ جبیں کی آمد آمد ہے سرا پا شوق بن کر منتظر ہیں جھنگ کی گلیاں در و دیوار کو مہکا رہے ہیں زلف کے سائے غزل میں ڈھل گئی ہیں حسن شوخ و شنگ کی گلیاں وہ اُجلے اُجلے، نکھرے نکھرے غم کے آئینہ خانے وہ گدرائی ہوئی رخسار و رقص و رنگ کی گلیاں ذرا سے زلزلے سے ڈھے گئیں فرقت کی دیواریں غرور عشق کے بازار، نام و ننگ کی گلیاں ڈبو کر خون میں نکھری ہوئی رنگیں ردا لاؤ کہ شہر ہجر میں ننگی ہیں خشت و سنگ کی گلیاں حریف اتنا پریشاں ہو رہا ہے کس لیے مضطر ! جو ہمت ہے بسالے وہ بھی اپنے ڈھنگ کی گلیاں