اشکوں کے چراغ — Page 147
147 میں تھا یا میرا سایہ تھا سورج جب ملنے آیا تھا میں نے جب پتھر کھایا تھا تو نے چوٹ کو سہلایا تھا دیواریں ہی دیواریں تھیں در تھا نہ کوئی دروازہ تھا دھوپ تھی اور تیبا صحرا تھا پیٹر تھا نہ کوئی سایہ تھا میں ہمسائے سے کیا لڑتا ہمسایہ تو ماں جایا تھا چوٹ لگی تھی میرے دل پر تو کیوں آنسو بھر لایا تھا صدیوں کی پیاسی تھی دھرتی تو بارش بن کر آیا تھا تو تھا آدھی رات کا آنسو تو دھرتی کا سرمایہ تھا صدیوں نے پہچان لیا تھا لمحوں نے بھی اپنایا تھا چاند کا چہرہ ماند ہوا تھا سورج کا رُخ گہنایا تھا تیری آنکھوں میں تھے آنسو میرا بھی جی بھر آیا تھا اس کی چوٹ لگی تھی تجھ کو میں نے جو پتھر کھایا تھا ماضی، حال اور مستقبل پر چاروں اور ترا سایہ تھا تو آئینه در آئینه آئینوں سے اور بروزن شور بمعنی طرف ٹکرایا تھا