اشکوں کے چراغ — Page 134
134 میں عہد عشق کا منصور تو نہ تھا لیکن کسی نے سنگ، کسی نے تو پھول مارا تھا میں اشک اشک ستارے تراشتا کیسے پکھل گیا تھا وہ منظر جو سنگ خارا تھا تم آسماں سے بچھڑ کر اُداس کیا ہوتے زمین زہر تھی اور زہر بھی گوارا تھا یہ اور بات ہے منزل جدا جدا تھی مگر جو راستہ تھا ہمارا وہی تمھارا تھا شب فراق کو آباد کر گیا مضطر! وہ اشک جو کبھی صورت ، کبھی ستارہ تھا