اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 129 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 129

129 کوئی آواز کا بھوکا، کوئی پیاسا نکلے شہر مسحور میں کوئی تو شناسا نکلے رات دن جس کو برا کہتی ہیں تیری آنکھیں کیا عجب ہے وہ براشخص بھی اچھا نکلے شہر میں دھوم تھی اس شوخ کی عیاری کی دیکھیے ! دشت میں آیا ہے تو کیسا نکلے ہم نے مانا کہ بہت سادہ و پرکار تھا وہ چاہنے والے تو کچھ اور بھی سادہ نکلے مسحور میں جاؤ تو خبردار رہو کہیں ایسا نہ ہو سا یہ بھی نہ سایہ نکلے دیکھنے والوں کی آنکھیں نہ کہیں تھک جائیں پردہ غیب سے جب تک ترا چہرہ نکلے دو قدم اور سہی اے تھکے ماندے راہی! کیا عجب ہے کہ یہیں سے کوئی رستہ نکلے