اشکوں کے چراغ — Page 117
117 نذر غالب نا امیدانہ سوچتا زندگی ہے درد کے سوا کیا ہے رو رہا کیوں ہے، ہنس رہا کیا ہے دل ناداں! مجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے“ تیرا احسان ہے اے فرقت یار! ہم خطا کار بھی ہیں شب بیدار کوئی سمجھائے عشق کے اسرار ہم ہیں مشاق اور وہ بیزار یا الہی! ماجرا کیا ہے جسم رکھتا ہوں، جان رکھتا ہوں دل بھی اے مہربان! رکھتا ہوں ایک طرز بیان رکھتا ہوں میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے 66