اشکوں کے چراغ — Page 101
101 دیں جدا دینے لگے، دنیا جدا دینے لگے جس قدر مانگا تھا اس سے کچھ سوا دینے لگے جاں کا غم ، جاناں کا غم ، دنیا کا غم عقبی کا غم کیا نہیں دیتا ہے جب میرا خدا دینے لگے شاعری چھوڑو ، قلم توڑو ، کرو ترک وطن ہم کو یہ احباب مل کر مشورہ دینے لگے چاند بھی کھڑکی کے رستے آ گیا دالان میں آہٹوں کو گھر کے آئینے صدا دینے لگے پھول تھا تو پھول کے جذبات کا رکھتے خیال تم اسے گلدان میں رکھ کر بھلا دینے لگے جیتے جی کوئی کسی کا پوچھنے والا نہ تھا مر گئے تو اپنے بیگانے دعا دینے لگے ہاتھ رنگیں کر لیے پہلے ہمارے خون سے پھر اٹھی ہاتھوں سے ہم کو خوں بہا دینے لگے