اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 100 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 100

100 ادی کشته تیغ انا لگتا واعظ شہر خدا لگتا ہے کوئی چہرہ نہیں لگتا چہرہ آئینہ ٹوٹ گیا اس کے اندر ہے بلا کی وسعت یہ کھلا شہر لگتا ہے ہے مل مل مل کھلا شہر کھلا لگتا ہے پھر کہیں سوچ کے سٹاٹے میں برگِ آواز گرا لگتا ہے پھر پھرا کر وہیں آجاتا ہے وقت گنبد کی صدا لگتا ہے ہے یا اخی کہہ کے بلاتے ہیں لوگ کوہ غم کوہ ندا لگتا ماہ لگتا ہے ترا دستِ دعا مہر نقش کف پا لگتا ہے تو اگر بول رہا ہو پیارے! کوئی بولے تو برا لگتا ہے۔باغ جنت سے نکلنے والا راستہ بھول گیا لگتا ہے مجھ سے ہمدردی جتانے والے! تو مرا کون ہے ، کیا لگتا ہے جب ہوا چلتی ہے ٹھنڈی مضطر ! شہر دیوار سے جا لگتا ہے۔۔۔محترمی جناب احمد ندیم قاسمی مرحوم کا مشہور شعر ہے۔اتنا مانوس ہوں سناٹے سے کوئی بولے تو بُرا لگتا ہے