اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 86 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 86

86 در بچے کھول کے در آئے آہٹوں کے ہجوم مکین کانپ رہے ہیں، مکاں ہیں متزلزل اداس کب سے کھڑے ہیں صدا کے سنگم پر یہ انتظار کے صحرا، یہ ہجر یار کے تھل ابھی نہ چہرہ دکھائیں، یہ راستوں سے کہو غبار کوچہ جاناں کا اوڑھ لیں آنچل بھڑک کے شعلہ نہ بن جائیں داغ سینے کے خیال زلف پریشاں نہ اور پنکھا جھل کبھی جو وقت کے سینے کو چیر کر دیکھا نہ کوئی شام ابدتھی ، نہ کوئی صبح ازل اسی کا عکس ہیں دیروز و فردا و امروز وہ خود زمانہ ہے، اس کے لیے نہ آج نہ کل وہ بزم گن کا ہے مالک بھی اور خالق بھی اسی کے اذن سے پھوٹی وجود کی کونپل میں اس کی بزم تحیر میں بار بار گیا کبھی بدن کے سہارے، کبھی نگاہ کے بل میں ایک جست میں اس کے حضور جا پہنچا ہزار راہ میں حائل تھی عقل کی دلدل وہ مشرقی ہے نہ وہ مغربی مگر بخدا وہی ہے مشرق و مغرب کی مشکلات کا حل