اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 60 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 60

60 60 اس کو میرا کفر لوٹایا گیا وہ جو شائق تھا مری تکفیر کا ناقت اللہ کو ستایا بے سبب کاٹنا چاہا شجر انجیر کا آئینے کا بال رہنے دیجیے فکر کیسے آنکھ کے شہتیر کا تھوڑے ہو کر بھی نہ ہم تھوڑے لگے معجزہ ہم کو ملا تکثیر کا دی جگہ مجھ کو فراز دار پر معترف ہوں دل سے اس توقیر کا میرا قاتل بچ کے جا سکتا نہیں مجھ سے وعدہ ہے یہ میرے پیر کا میرے کاٹے کا نہیں کوئی علاج مجھ کو آتا ہے عمل تسخیر کا میں تمھیں کر کے تہ دل سے معاف سے بدلہ لوں گا اس تحقیر کا ٹوٹ ہی جائے گا مضطر! ایک دن سلسلہ اس جرم بے تقصیر کا