اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 42 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 42

42 فرقت کو وصال کر دیا ہے تو نے تو نہال کر دیا ہے آنسو ہی نہیں مریض دل کو ہر زہر اُبال کر دیا ہے یہ دین ہے تیری دینے والے! جو غم بھی ہے پال کر دیا ہے اتنا تو کیا ہے تو نے قاتل! اظہار ملال کر دیا ہے دشنام بھی دی ہے مسکرا کر پتھر بھی اُچھال کر دیا ہے اس کو مرے راستے میں رکھ دو کانٹا جو نکال کر دیا ہے فرہاد کا رک گیا ہے تیشہ پتھر نے سوال کر دیا ہے ہم نے سرِ دار مسکرا کر مشکل کو محال کر دیا ہے چپکے سے چلا گیا بچھڑ کر مضطر نے کمال کر دیا ہے