اشکوں کے چراغ — Page 24
24 مان ہجوم رنگ سے گھبرا گئی ہے صبا گلشن باہر آ گئی سے باہر ہے بھنور سے پڑ گئے خاموشیوں میں صداؤں سے صدا ٹکرا گئی ہے غم دوراں کے دھندلے غمکدوں میں تری تصویر بھی دھندلا گئی ہے ستاروں کے کنارے گھس گئے ہیں اُجالوں کی نظر پتھرا گئی ہے گوالے رک گئے ہیں راستوں میں یہ کس سے روٹھ کر رادھا گئی ہے غریب شہر نے کس کو پکارا بڑی گہری خموشی چھا گئی ہے تمنا کی پری سپنے میں مضطر! سہاروں کی جبیں سہلا گئی ہے