اشکوں کے چراغ — Page 20
20 20 تنہائی دیدہ و دل میں گھول رہے ہیں درد کے اوقیانوس مجبوروں کے ایشیا اور مزدوروں کے رُوس تنہائی میں جل اُٹھے ہیں یادوں کے فانوس یاد کی جوت جگائی تنہائی 6 تنہائی بنجر ٹیلوں میں اُگ آئے خواہش کے شہتوت حال کے گلشن میں لا رکھا ماضی کا تابوت بزمِ طرب میں ڈرتے ڈرتے آیا ایک اچھوت کیوں ڈرتے ہو بھائی! تنہائی 6 تنہائی پت جھڑ کے طوفان میں پہلے پتے ہیں مجبور وقت کا سینہ کھود رہے ہیں لمحوں کے مزدور تنہائی میں چاند نے چوسے اشکوں کے انگور آگ سے آگ بجھائی تنہائی تنہائی