اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 611 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 611

611 اجنبی آشنا پھر کوئی حادثہ ہو جائے ہو جائے پھول کا رنگ اڑ نہ جائے کہیں اور خوشبو رہا نہ مجھ کو ڈر ہے کہ فرط لذت سے پیٹر غم کا ہرا نہ ہو جائے دیکھتی آنکھوں ہو جائے برسم دربار پھر کوئی معجزہ نہ ہو جائے فرقت ہو تیری عمر دراز تو بھی جدا نہ ہو جائے با ملاحظه ہشیار کہیں نقشِ پا نہ ہو جائے بے یقینوں کو آ نہ جائے یقیں درد پھر لا دوا نه ہو جائے دل ہی اک یار غار ہے اپنا کہیں بھی خفا نہ ہو جائے اکثریت کے زعم میں مضطر کہیں بندہ خدا نہ ہو جائے