اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 610 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 610

610 محروم ہو نہ جاؤ کہیں اس ثواب قسمت میں ہے تو جا کے ملو آفتاب سے لوگ مضطرب ہیں اسی اضطراب سے گزرے گی کیسے اب اگر جاگے نہ خواب سے جب بھی ہلے ہیں ہونٹ وہ نازک گلاب سے کانٹے بھی جیسے ہو گئے ہوں لاجواب سے دل کو یقین تازہ ملا ان کو دیکھ کر میں بال بال بچ گیا یوم الحساب سے نور آسمان سے اترا نہ ہو کہیں بڑھ کر چمک رہا ہے مہ و آفتاب سے زندہ ہے حسن آج بھی اللہ کی قسم! آواز آ رہی ہے مسلسل کتاب سے نور و ظہور قدرت ثانی! خدا گواہ بگڑی سنور گئی ہے ترے انتخاب سے 66 آخر کنند دعوای حُبّ پیمبرم مالک انہیں نجات دے اب اس عذاب سے